qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

اعلیٰ تعلیم سے مسلمانوں کی دوری باعث تشویش۔سراج نقوی

’آل انڈیا سروے آن ہائر ایجوکیشن‘ AISHE کی ایک رپورٹ مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیم سے دوری کے تعلق سے جو تصویر پیش کرتی ہے وہ باعث تشویش ہے۔یہ ایسے حالات میں مزید فکر مند کرنے والی ہے کہ موجودہ حکمرانوں کی طرف سے بھی مسلمانوں کو تعلیم سے دور رکھنے کے لیے تمام طرح کے ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔کرناٹک میں اسمبلی انتخابات سے پہلے مسلمانوں کو مختلف شعبوں میں ملنے والا چار فیصدی ریزرویشن ختم کرنے کی کوشش اس بات کا ثبوت ہے۔یہ الگ بات کہ سپریم کورٹ نے فرقہ پرست حکمرانوں کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔

مذکورہ رپورٹ بتاتی ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے رجسٹریشن کرانے والے مسلم طلباء کی تعدا د میں ملک گیر سطح پر8 فیصدی کی کمی آئی ہے۔سب سے زیادہ باعث تشویش صورتحال اتر پردیش کی ہے جہاں ریاست میں مسلم آبادی مجموعی آبادی کا20 فیصد ہے،لیکن یہاں مسلم نوجوانوں کے ذریعہ اعلیٰ تعلیم کے لیے رجسٹریشن کرانے کے معاملے میں 36فیصدی کی گراوٹ درج کی گئی ہے۔اس معاملے میں صرف کیرالا ہی ایسی ریاست ہے کہ جہاں 43فیصدی مسلمانوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے رجسٹریشن کرایا۔ جبکہ دوسری طرف درج فہرست ذاتوں،درج فہرست قبائل اور پسماندہ طبقات میں بالترتیب2 4.فیصدی،11.09فیصدی اور4فیصدی بہتری آئی ہے۔یعنی سوائے مسلمانوں کے باقی تمام ذاتوں یا برادریوں میں اعلیٰ تعلیم کا رجحان کم ہونے کی بجائے بڑھ رہاہے۔حالانکہ انصاف کی بات یہ ہے کہ ان برادریوں کے تعلق سے بھی حکومت کا رویہ بڑی حد تک منفی ہی ہے۔سنگھ پریوار تو ریزرویشن کے ہی خلاف ہے۔ایسے میں جو برادریاں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں آگے بڑھ رہی ہیں ان کے ذہن میں ممکن ہے کہ یہ بات بھی ہو کہ موجودہ حکمراں کبھی بھی موقع ملتے ہی ان کو حاصل ریزرویشن کو ختم کر سکتے ہیں۔اسی لیے انھوں نے اعلیٰ تعلیم کے حصول میں زیادہ فعالیت اور دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے،لیکن افسوس کہ ہندوستانی مسلمان اعلیٰ تعلیم کی اہمیت اور ضرورت سے غافل نظر آتے ہیں۔ایسے میں حکومت سے یہ شکوہ بھی بے معنی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے۔ظاہر ہے کوئی بھی حکومت کسی بھی برادری کے لوگوں کو جبراً اسکول جانے پر مجبور نہیں کر سکتی۔چہ جائیکہ موجودہ حکومت۔

حالانکہ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے رجسٹریشن میں آئی اس گراوٹ کا ایک سبب کورونا کی وبا کے سبب آئی اقتصادی بد حالی بھی ہے۔اس لیے کہ حالات کے سبب نوجوانوں نے اعلیٰ تعلیم کی طرف جانے کی بجائے تلاش معاش کی طرف توجہ مبذول کر دی۔حالانکہ اگر اس دلیل کو مان لیا جائے تو پھر یہ سوال بھی ہوگا کہ دلت یا پسماندہ طبقات کے ساتھ بھی تو کسی نہ کسی حد تک یہی مسئلہ تھا تو ان کے اعلیٰ تعلیم کے رجحان میں اضافہ کیوں ہو ا اور مسلمانوں کے رجحان میں کمی کیوں آئی؟یہ سوال بھی ہے کہ کورونا کے اثرات تو کیرالا میں بھی تھے لیکن وہاں کے مسلمانوں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کا رجحان کیوں کم نہیں ہوا؟ہو سکتا ہے کہ اس معاملے میں کسی حد تک ریاستی حکومت کی پالیسیوں کا بھی دخل ہو،لیکن اس دخل کے سبب اتنا بڑا فرق بہرحال نہیں ہو سکتا کہ جتنا اعداد وشمار کی روشنی میں نظر آتا ہے۔یہ حقیقت تسلیم کرنے میں کوئی جھجھک نہیں ہونی چاہیے کہ دیگر اسباب کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں اعلیٰ تعلیم کے تئیں کم دلچسپی کا ایک بڑا سبب ان کا اپنا رویہ بھی ہے۔

مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیم سے غفلت اس لیے بھی زیادہ باعث شرم ہے کہ اسلام نے روز اوّل سے ہی تعلیم کے حصول پر زور دیا ہے۔جس مذہب میں ’اقراٗ‘کہہ کرروز اوّل ہی تعلیم کی اہمیت بیان کر دی گئی ہواور رسولؐ پر وحی کی صورت میں نازل ہونے والا لفظ یہ اقراء ہی ہو، اس نبی کے پیروکار اگر تعلیم کے میدان میں پیچھے ہیں تو اسے صرف دوسروں پر الزام لگا کر چھپایا نہیں جا سکتا۔قرآن کریم میں واضح طور پر اللہ اپنے محبوب بنیٰﷺ سے فرماتا ہے کہ،(اے نبیؐ)کہہ دیجیے کیا علم رکھنے والے اور علم نہ رکھنے والے برابر ہو سکتے ہیں“،اور بات صرف یہی نہیں کہ اللہ نے قرآن کریم میں پڑھنے کی اہمیت ہی بیان کی ہو بلکہ قلم کی قسم کھا کر پڑھنے کے ساتھ لکھنے کی اہمیت بھی اس لیے واضح کی گئی کہ علم کو صرف پڑھائی تک محدود نہ کر دیا جائے۔اسلام کے اس پیغام کا ہی نتیجہ تھا کے عرب کے جاہل بدّو بھی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے اور اس طرح عرب معاشرے میں تبلیغ اسلام کی راہیں ہموار ہوئیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب اسلام پڑھنے پر زور دیتا ہے تو اس کا زور صرف دینی تعلیم پر ہی نہیں ہوتا بلکہ دنیاوی تعلیم کے مختلف شعبوں میں علم کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔اگر رسول اسلام نے جنگ میں شکست کھائے ہوئے کفّار کو بھی اس بات پر مامور کیا کہ وہ مسلمانوں کے بچوں کو علم دیں تو ظاہر ہے یہ علم دین نہیں بلکہ دنیاوی علوم کے حصول کی ہی کوشش تھی۔بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے اسلامی مدارس کو بھی صرف مذہبی تعلیم تک محدود کر دیا ہے،حالانکہ ماضی میں اس طرح کی مثالیں موجود ہیں کہ دینی مدارس عصری تعلیم کے بھی بڑے مرکز رہے اور وہاں سے فارغ طلباء نے دین کے ساتھ دنیاوی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر اپنے علم کا استعمال کیا۔ہر چند کہ گذشتہ چند برسوں میں یہ مثبت رجحان ہمارے مدارس میں بھی دیکھنے آیا ہے کہ ان میں بہت سے عصری علوم کی تعلیم بھی دی جا رہی ہے،لیکن اس رجحان کو مزید آگے بڑھانے اور تعلیم کے تئیں مسلم نوجوانوں کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اقتصادی مسائل کی موجودگی میں کس طرح تعلیم کو آگے بڑھایا جائے،لیکن اس سمت میں اہل خیر اور باحیثیت مسلمانوں کو آگے آنا ہوگا۔دراصل ہمارا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم بیشتر مسائل کے تعلق سے حکومت پر انحصار کرتے ہیں اور اپنی سطح پر مسائل کے حل کے لیے کوششیں کم ہی کرتے ہیں۔ روزگار سے لیکر اردو کے فروغ اور دیگر تمام معاملات میں یہ رویہ ہمیں کمزور اور دشمنوں کو مضبوط کر رہا ہے۔تعلیم کے شعبے میں خصوصاً اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مسلمانوں کی عدم دلچسپی کا ایک بڑا سبب یہ منفی رجحان بھی ہے۔جبکہ دیگر غیر ہندو ہندوستانی اقوام ایسے معاملات میں اپنے وسائل کے بل پر آگے بڑھ رہی ہیں۔عیسائیوں اور سکھوں کو ایسے معاملوں میں مثال کے طور پر سامنے رکھا جا سکتا ہے۔ان دونوں مذاہب کے ماننے والوں کے ادارے اپنے اپنے مذاہب کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کے شعبے میں بھی حکومت سے الگ اپنی کوششوں پر بھروسہ کرتے ہیں،اور نتائج سامنے ہیں۔جہاں تک مسلمانوں کے تعلیمی اداروں کا تعلق ہے تو ان میں سے بیشتر کا اوّل تو معیار ہی مقابلہ جاتی سطح کا نہیں اور جن کا یہ معیار ہے ان کی تعداد بھی ہندوستانی مسلمانوں کی آبادی کے تناسب میں بیحد کم ہے۔خصوصاً اتر پردیش میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مسلمان باقی ملک کے مقابلے میں کافی پیچھے ہیں۔ اس کے بعد جموں و کشمیر کا نمبر ہے جہاں یہ گراوٹ26فیصد،مہاراشٹر میں 8.05فیصد اور تملناڈو میں 8.01فیصد ہے۔اتر پردیش کے تعلق سے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ رپورٹ کے مطابق یہاں حالیہ برسوں میں کالجوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہوا ہے۔اس کے باوجود اگر مسلمان ان کالجوں تک نہیں پہنچ رہے ہیں تو اسے حکومت کی کسی سازش سے نہیں جوڑا جا سکتا۔البتہ کشمیر کا معاملہ باقی ملک سے الگ ہے،لیکن دیگر ریاستوں میں صورتحال بہتر ہونا دراصل اتر پردیش کے مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیم کے تعلق سے عدم دلچسپی کا ہی ثبوت ہے،اور یقینی طور پر یہ بات باعث تشویش ہے۔اس پر ہمارے رہبران قوم کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
sirajnaqvi08@gmail.com Mobile:9811602330

Related posts

بلڈوزر کی سیاست یا۔۔۔۔؟ سراج نقوی

qaumikhabrein

ہندستانیوں کے لئے اچھی خبر۔سعودی ویزا آسان۔پولیس کلیئرنس کی شرط ختم

qaumikhabrein

اسرائل کے خلاف حزب اللہ نے لبنان سرحد پر محاذ کھول دیا ہے۔

qaumikhabrein

Leave a Comment