qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

یو پی پولیس کامحرّم سرکولریا نوشتہ منافرت؟ از سراج نقوی

یو پی ڈی جی پی کا متنازعہ سرکولر

اتر پردیش پولیس نے محرم الحرام سے قبل تعزیہ داری اور مجالس و جلوس ہائے عزا کے تعلق سے جو سرکولر ریاست کے تمام اضلاع کے پولیس سربراہوں کو کووڈ 19کے ضابطوں اور پابندیوں پر عمل درآمد کرانے اور اس دوران امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھنے کی غرض سے بھیجا ہے وہ کسی سرکاری یا انتظامی سرکولر سے زیادہ نوشتہ منافرت لگتا ہے۔
اس سرکولر میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے تعلق سے محرم کے موقع سے متعلق جو کلّیہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اسے کسی بھی طرح مناسب قرار نہیں دیا جا سکتا۔محرم کے جلوسوں کے دوران جن مبینہ واقعات کا ذکر اس سرکلر میں کیا گیا ہے ان کا نہ تو ان جلوسوں سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی اس میں حقیقت ہے۔یہ بات ناقابل فہم ہے کہ عزاداری کے دوران کووڈ ضابطوں پر عمل کرانے کے لیے بھیجے گئے سرکولر میں کئی ایسی بے بنیاد باتوں کا ذکر کیوں کیا گیا کہ جو مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔سرکولر میں جلوسوں کے دوران مبینہ طور پر رونما ہونے والے کچھ ناخوشگوار واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔اس بات سے قطع نظر کہ ان واقعات کے تعلق سے پولیس کے دعووں میں کتنی صداقت ہے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کورونا کے تعلق سے سپریم کورٹ کے احکامات اور ریاستی حکومت کی ایڈوائزری کے سبب جب محرم کے جلوسوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے تو پھر جلوسوں کے دوران ہونے والے کسی واقعہ کے ذکر کا کیا جواز ہے؟

بات کو آگے بڑھانے سے قبل یہ وضاحت ضروری ہے کہ ڈی جی پولیس کے جس سرکولر پر تنازعہ ہے وہ ایک خفیہ سرکولر ہے۔اس لیے یہ سوال بھی ہے کہ آخر اس سرکولر کو کس نے اور کیوں وائرل کیا،اور کیا ریاست کا محکمہ پولیس اس بات کی جانچ کریگا کہ سرکولر کو وائرل کرنے کے پس پشت کس کی سازش ہے؟پولیس یا انتظامیہ کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی بیان اب تک نہیں آیا ہے۔البتّہ اے ڈی جی پولیس کا ایک وضاحتی بیان اس سرکولر کی صداقت کی تصدیق کرتا ہے۔بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ سرکولر پرانا ہے اور ہر سال اسے ہی بھیجا جاتا ہے۔یہ دعویٰ نہ صرف بچکانہ وغیر ذمہ دارانہ ہے اور پولیس کی نااہلی ثابت کرتا ہے بلکہ یہ سوال بھی پیدا کرتا ہے کہ اگر یہ سچ ہے تو کیا اس سرکولر کی زبان اور جھوٹے دعووں کو موجودہ پولیس افسران کے ذریعہ بدلا نہیں جانا چاہیے تھا۔جو حکومت اور انتظامیہ ہر روز نئے ضابطوں اور نئے قوانین بنانے میں حد سے زیادہ فعالیت کا مظاہرہ کر رہی ہو کیا اسے اس بے بنیاد دعووں سے بھرے سرکولر کو بدلنے کی ضرورت نہیں تھی؟دوسری اہم بات یہ کہ اگر یہ سرکولر گذشتہ برسوں میں بھی جاری ہوتا رہا ہے تو یہ بات تو بہرحال واضح ہے کہ یہ منظر عام پر اب آیا ہے۔اس سے قبل یہ خفیہ ہی تھا اور اہل تشیع یا اہلسنّت اس میں پولیس کے زریعہ کیے گئے لغو و بے بنیاد دعووں سے واقف نہیں تھے،اور اب جبکہ یہ کسی بھی سبب سے وائرل ہوچکا ہے تو پولیس انتطامیہ کونہ صرف اسے وائرل کرنے والے عناصر کا پتہ لگانا چاہیے بلکہ سرکولر کی زبان میں ترمیم کرکے اسے موجودہ حالات کے مطابق بنانا چاہیے اور ان بے بنیاد دعووں کے لیے معافی مانگنی چاہیے کہ جو اس میں کیے گئے ہیں۔
آئیے اب اس سرکولر کے ان مشمولات پر نگاہ ڈالتے ہیں جو ہنگامے یا تنازعے کا سبب بن گئے ہیں، اور جن پر نہ صرف اہل تشیع بلکہ اہل سنّت حتیٰ کہ ان ہندو حضرات کو بھی اعتراض ہے جو امام حسین سے عقیدت رکھتے ہیں اور محرم کے موقع پر اپنے انداز سے غم حسین مناتے ہیں۔

مکل گوئل ۔ڈی جی پی یو پی

سرکولر کے دوسرے پیراگراف میں دعویٰ کیا گیا ہے ”کہ محرم کے موقع پر شیعہ فرقے کے لوگوں کے زریعہ تبرّا پڑھے جانے پر اہل سنت کے دیوبندی و اہل حدیث کے ذریعہ سخت اعتراض کیا جاتاہے۔ جو اس کے جواب میں مدح صحابہ پڑھتے ہیں جس پر شیعہ معترض ہوتے ہیں۔“ اس غیر ذمہ دارانہ دعوے کے تعلق سے تفصیل میں نہ جاتے ہوئے صرف یہ کہنا کافی ہے کہ یہ حقیقت کے برخلاف ہے اور چند شرپسند عناصر کے کسی غیر ذمہ دارانہ عمل کو کسی بھی پورے فرقے پر منطبق نہیں کیا جا سکتا۔خواہ وہ اہل سنت ہوں یا اہل تشیع۔اس پیراگراف میں سب سے زیادہ قابل غور بات یہ ہے کہ اس میں نہ صرف اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے والا دعویٰ کیا گیا ہے بلکہ اہل سنت کو بھی دیوبندی،اہل حدیث،بریلوی،صوفی یا حنفی کے خانوں میں رکھ کر تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اسی طرح چند سخت گیر عناصر کے عمل کو سامنے رکھ کر دیوبندی اور اہل حدیث مسلمانوں کو سخت گیر مسلمان مان لینا کسی طرح درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔جب کہ سرکولر میں ایسا ہی کیا گیا ہے۔نظریاتی اختلاف کو سخت گیری سے تعبیر کرنے کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا،اور فتنہ پرور عناصر کے عمل کو کسی خاص مذہب یا فرقے سے نہیں جوڑا جا سکتا۔کیا چند فرقہ پرست ہندو نام والی تنظیموں یا افراد کے عمل کو دیکھتے ہوئے ہم تما م ہندو بھائیوں کو فرقہ پرست کہہ سکتے ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کے سیکولرزم اور فرقہ وارانہ امن کو برقر رکھنے میں ہندو ؤں کا کلیدی رول ہے۔ اسی لیے مذہب کو بنیاد بنا کر خواہ ہندو ہوں یا مسلمان،سنّی ہوں یا شیعہ، دیوبندی ہوں یا بریلوی کسی کو کٹہرے میں کھڑا کرنے اور مذہبی یا مسلکی اختلاف کو ہوا دیکر منافرت پھیلانے کوکسی طرح قبول نہیں کیا جا سکتا۔اگر کسی سرکاری سرکولر میں ایسا کیا جاتا ہے تو اس کی بھی بھرپور لیکن جمہوری انداز سے مخالفت ملک کے ہر ذمہ دار شہری کو کرنی چاہیے۔ خواہ وہ کسی بھی مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو۔یہی سبب ہے کہ اتر پردیش پولیس کا مذکورہ سرکولرمنظر عام پر آنے کے بعد مختلف مذہبی و سماجی حلقوں کی طرٖ ف سے اس کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں اور اسے منافرت بڑھانے والا قرار دیا جا رہا ہے۔

مولانا کلب جواد اور مولا نا یعسوب عباس
مولانا سیادت نقوی۔امروہا

جہاں ایک طرف لکھنؤ کے شیعہ علماء مولانا کلب جواد،مولاناحمید الحسن،مولانا یعسوب عباس و دیگر علما نے،اور ہندوستان کے مختلف شہروں مثلاً امروہہ کے شیعہ امام جمعہ و جماعت مولا نا ڈاکٹر سیادت نقوی،دلّی کی شیعہ جامع مسجد کے مولانا محسن نقوی دیگر علماء نے مذکورہ سرکولر کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کے لیے ڈی جی پولیس سے معافی مانگنے اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے وہیں اہل سنّت کے سرکردہ علماء و لیڈروں نے بھی اس پر اپنا احتجاج درج کرایا ہے۔ان میں مشرقی دہلی ضلع کے جمعیتہ علماء کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر مشتاق احمد انصاری اور دیگر علاقوں کے کئی حضرات شامل ہیں۔کئی سرکردہ ہندوؤں نے بھی امام حسین کے تئیں اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے سرکولر سے اپنا عدم اتفاق ظاہر کیا ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ لکھنؤ سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں محرم اور تعزیہ داری میں نہ صرف اہل سنت بلکہ ہندو حضرات بھی حصہ لیتے ہیں۔سب سے اہم بات یہ کہ کسی بھی نظریاتی اختلاف کا استعمال فرقہ وارانہ منافرت یا جھوٹ کو پھیلانے کے لیے نہیں کیا جانا چاہیے۔جبکہ مذکورہ سرکولر میں یہی کیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سرکولر صرف سنّی شیعہ اختلافات پیدا کرنے کے تعلق سے ہی نہیں بلکہ ماتمی جلوسوں کو بدنام کرنے کی سازش کا حصہ لگتا ہے۔اس میں جلوسوں کے موقع پر گؤکشی اور جنسی طور پر حراساں کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ظاہر ہے یہ رویہ کسی بھی مذہبی پروگرام کے تقدس سے کھلواڑ کرنے کی کوشش ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ریاستی پولیس کا یہ سرکولر اتر پردیش میں آئیندہ برس ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے درمیان انتشار پیدا کرنے کی ایک کوشش کا حصہ نظر آتا ہے،اور سرکولر میں جس امن و امان کے قیام اورتمام فرقوں کے درمیان منافرت کو ہوا نہ دینے کے لیے اقدامات کی بات کہی گئی ہے یہ سرکولر اس کی ہی روح کے خلاف ہے۔اسی لیے اسے فوراً واپس لینے یا اس میں مناسب ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔
sirajnaqvi08@gmail.com Mobile:09811602330

Related posts

پر اسرار لیزر لائٹ سے اسرائیلیوں میں دہشت

qaumikhabrein

محبت کی خاطر جاپان کی شہزادی نے عیش و عشرت کو ٹھکرا دیا۔

qaumikhabrein

ایران میں عید غدیر مذہبی جوش و عقیدت سے منائی جارہی ہے۔

qaumikhabrein

Leave a Comment