qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

یو پی اور مغربی بنگال کا فرق۔۔۔۔۔۔تحریر سراج نقوی

فائل فوٹو

آئیندہ برس اتر پردیش میں ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات میں بھی بی جے پی کا حشر مغربی بنگال جیسا ہی ہوگا۔یعنی اتر پردیش میں بھی بی جے پی کو شکست فاش کا منھ دیکھنا پڑیگا۔ہریانہ کے جیند علاقے میں کسانوں کے ایک اجتماع کو مخاطب کرتے ہوئے کسان لیڈرنے کہا کہ مرکز کی حکمراں جماعت کا جو حشرمغربی بنگال کے انتخابات میں ہوا وہی اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں بھی ہوگا۔راکیش ٹکیت نے اتر پردیش اسمبلی الیکشن کو کسانوں کے مسائل سے جوڑتے ہوئے کہا کہ جو بھی پارٹی اپنے منشور میں زرعی قوانین کو کو درست ٹھہرائیگی کسان اس کو دھول چٹانے کا کام کرینگے۔ ٹکیت نے یہ بھی کہا کہ کسان اس وقت تک اپنی تحریک جاری رکھینگے جب تک انھیں کامیابی نہیں مل جاتی۔ٹکیت نے دعویٰ کیا کہ کسان تحریک کا اتر پردیش اسمبلی انتخابات پر نمایاں اثر نظر آئیگا۔ٹکیت کے مطابق اتر پردیش میں ہوئے پنچایت انتخابات کے نتائج نے حکومت کو اپنی حکمت عملی اور لیڈر بدلنے پر غور کرنے کے لیے مجبور کر دیا ہے،اور اگر حکمراں اب بھی نہیں بدلے تو انھیں اس کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ٹکیت نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مودی حکومت کو بی جے پی نہیں بلکہ بڑی بڑی کمپنیاں چلا رہی ہیں۔یعنی ٹکیت کا نشانہ بی جے پی نہیں بلکہ مودی کے قریبی سرمایہ دار گھرانے ہی ہیں۔مودی سرکار کی دیگر غلط پالیسیوں پر ٹکیت نے لب کشائی سے گریز ہی کیا ہے۔

فائل فوٹو

کسان لیڈر کے مذکورہ بیان کے بین السطور بہت کچھ ایسا ہے جس پر غور کیا جائے تو واضح ہو جائیگا کہ ٹکیت جو کچھ کہہ رہے ہیں اس میں بی جے پی یا اس کی بنیادی پالیسیوں سے سوائے زرعی قوانین کے اختلافات بہت کم ہیں۔ٹکیت کہتے ہیں کہ مودی سرکار بی جے پی کی پالیسیوں پر نہیں بلکہ مودی کے قریبی سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے والی پالیسیوں پر چل رہی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ٹکیت کی نگاہ میں بی جے پی اور سنگھ کی پالیسیوں میں کوئی برائی نہیں اور اگر مودی حکومت چند سرمایہ داروں کے مفادات کو نظر انداز کرکے صرف بی جے پی اور سنگھ کی ہندوتو کی پالیسیوں پر چلے تو انھیں کوئی اعتراض نہیں۔ٹکیت کہتے ہیں کہ اگر حکومت نے زرعی قوانین کو واپس نہیں لیا تو کسان اتر پردیش اسمبلی کے انتخابات میں بی جے پی کو دھول چٹا دینگے۔یعنی کسانوں کی بی جے حکومت سے مخالفت کا واحد سبب زرعی قوانین ہی ہیں۔ہر چند کہ یہ بات درست ہے کہ زرعی قوانین کے اثرات پورے سماج پر خصوصاً غریب کسانوں پر پڑینگے اور اس کے نتیجے میں ہماری زرعی معیشت کو زبردست نقصان پہنچیگا،لیکن اس کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ اگر حکومت زرعی قوانین سے پیچھے ہٹ جائے تو اسے باقی عوام دشمن پالیسیوں کے لیے معاف کر دیا جائے۔

تصویر۔بشکریہ جنتا ویکلی

ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اتر پردیش میں ہندوتو کے نام پر ووٹوں کی صف بندی جس مضفرنگر سے شروع ہوئی تھی وہاں کی جاٹ برادری اور مسلمان کئی دہائیوں سے مل جل کر رہتے آئے ہیں لیکن فرقہ پرستوں نے نہایت چالاکی سے اس اتحاد کو توڑکر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کر لیے۔کسان تحریک شروع ہونے سے پہلے تک اتر پردیش،راجستھا ن اور ہریانہ کی جاٹ برادری بی جے پی کے لیے اہم ووٹ بنک تھی۔تازہ صورتحال کیا ہے اس کا پتہ الیکشن سے ہی لگایا جا سکتا ہے،لیکن یہ بات بہرحال درست ہے کہ آج کسان تحریک میں سب سے بڑا رول اسی برادری کا ہے،اس لیے کہ مذکورہ ریاستوں میں کچھ مسلمان اور جاٹ برادری ہی زراعت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔یہ بھی درست ہے کہ فرقہ پرست طاقتوں نے اپنے مقاصد کے لیے جس طرح مغربی اتر پردیش میں مسلمانوں اور جاٹوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا تھا اس کا احسا س اب عوام کو ہو گیا ہے اور دونوں میں فاصلے ختم ہو رہے ہیں۔کسان تحریک پر اس کے اثرات کو صاف طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ اگر اتر پردیش اسمبلی انتخابات آتے آتے بی جے پی اپنی حکمت عملی عارضی سیاسی مفادات کے تحت تبدیل کرے اور زرعی قوانین کے معاملے پر کسانوں کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو جائے تو کیا ٹکیت اور اتر پردیش کی کسان برادری بی جے پی کو اس کی باقی عوام دشمن پالیسیوں کے لیے معاف کر دیگی؟کیا ریاست کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھنونکنا،کورونا کے دور میں انتظامی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ،بد انتظامی کے خلاف حکومت کو متوجہ کرنے والوں پر ملک سے بغاوت کی سنگین دفعات میں مقدمات قائم کرنا کیا جمہوریت کا قتل کرنے کے مترادف نہیں ہے،اور کیا اس کے لیے بی جے پی حکومت کے خلاف جمہوری طریقے سے آواز اٹھانے اور اسے الیکشن میں دھول چٹانے کی ضرورت نہیں ہے؟یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک کی کئی عدالتیں کورونا کے معاملے میں بی جے پی حکومتوں کے رویے پر بہت سخت تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ اسے عوام کے قتل کے مترادف قرار دے چکی ہیں۔تو کیا ایسی حکومتوں کا محاسبہ صرف اور صرف زرعی قوانین کی بنا پر کیا جانا کافی ہے۔اگر ان قوانین کو عین اسمبلی انتخابات کے موقع پر واپس لے لیا جاتا ہے یا کسانوں کے مطالبات کی روشنی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے تب بھی کیا ٹکیت یا اتر پردیش کے کسان بی جے پی حکومت کو دھول چٹانے کے اپنے عزم پر قائم رہینگے،اور اس کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف اسی طرح کھڑے ہونگے جس طرح زرعی قوانین کے معاملے میں کھڑے ہوئے ہیں؟

فائل فوٹو

دراصل یہی وہ بات ہے جو مغربی بنگال اور اتر پردیش کے انتخابی منظر نامے کو الگ کرتی ہے۔مغربی بنگال میں بی جے پی کی مخالفت زرعی قوانین یا کسی بھی ایک ایشو پر مبنی نہیں تھی۔اس مخالفت کی بنیاد مجموعی طور پر بی جے پی حکومتوں کو عوام کو تقسیم کرنے والا رویہ تھا۔مغربی بنگال کے ہوشمند ووٹروں نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ ریاست کو اگر فرقہ پرستی کی آگ سے بچانا ہے تو بی جے پی کے خلاف ہر قیمت پر فیصلہ کن جنگ لڑنی ہے۔یہ جنگ مغربی بنگال کے عوام نے اسی جارحانہ تیوروں،اسی ’جیسے کو تیسا‘ کی حکمت عملی کے ساتھ لڑی کہ جو بی جے پی کا شیوہ ہے۔مغربی بنگال کے عوام نے یہ واضح کر دیا کہ زور بازو کے بل پر ہمیشہ جیت حاصل نہیں کی جا سکتی اور آپ جو ہتھیار اپنے مخالف کے خلاف استعمال کر رہے ہیں وہ خود آپ کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔مغربی بنگال میں بی جے پی لیڈروں نے کس طرح ٹی ایم سی کارکنوں کو دھمکیاں دیں کہ دو مئی کے بعد وہ زندگی کی بھیک مانگیں گے،لیکن دو مئی کے بعد جب تشد کی نئی لہر آئی تو بی جے پی کو عدم تشدد کی یاد آئی۔ظاہر ہے اگر آپ دوسروں کے لیے گڈھا کھود کر خوش ہیں تو آپ احمقوں کی جنت میں ہیں اور اس بات کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ یہ گڈھا خود آپ کے لیے بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔
بہرحال اصل بات یہ ہے کہ مغربی بنگال اور اتر پردیش یا بہار کے ووٹروں میں ایک بنیادی فرق ہے اور وہ یہ کہ اتر پردیش یا بہار کے عوام نے بی جے پی کا مقابلہ ان تیوروں کے ساتھ نہیں کیا کہ جن کی اس پارٹی کے مقابلے میں ضرورت تھی۔بہار میں اقتدار پر بی جے پی کے قبضے کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں نے معمولی سا جمہوری احتجاج کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ جمہوری اداروں نے جن میں الیکشن کمیشن کا سب سے بڑا رول ہے تمام اصول و ضوابط کو طاق پر رکھ کر ریاست کے اقتدار کو بی جے پی کی جھولی میں ڈال دیا اور اپوزیشن پارٹیوں نے یہ مان لیا کہ وہ واقعی ہار گئی ہیں۔عوامی ووٹوں کی اس توہین کے لیے صرف اور صرف بزدل اپوزیشن ذمہ دار ہے۔یاد کیجیے اس بات کو کہ مدھیہ پردیش،کرناٹک،ہریانہ سمیت ملک کی کئی ریاستوں میں بی جے پی کا اقتدار عوامی فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ انتہائی بے غیرتی سے ممبران اسمبلی کی خرید و فروخت کرکے حاصل کیا گیا ہے،لیکن کسی اپوزیشن پارٹی میں یہ حوصلہ نہیں کہ وہ اس صورتحال کے خلاف مضبوطی سے لڑائی لڑ سکے۔اسی لیے اتر پردیش کی سیاسی جنگ کا مغربی بنگال کی سیاسی جنگ سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا کہ یہاں کے ووٹراور اپوزیشن پارٹیوں میں بی جے پی کے خلاف لڑنے کے لیے ان تیوروں کا فقدان نظر آتا ہے جو تیور مغربی بنگال کے ووٹروں نے دکھائے۔یہ بات درست ہے کہ اتر پردیش میں بھی بی جے پی عوامی حمایت سے بڑی حد تک محروم ہو چکی ہے،لیکن اہم بات یہ ہے کہ کیا اتر پردیش کی کمزور اپوزیشن پارٹیاں ممتا بنرجی کی طرح بی جے پی کو بے خوف ہو کر چیلنج کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں؟یہی وہ بات ہے جو مغربی بنگال اور اتر پردیش کے انتخابی منظر نامے کو الگ کرتی ہے اور سن 2022کے اسمبلی الیکشن میں اہم رول ادا کریگی۔
sirajnaqvi08@gmail.com Mobile:-09811602330

Related posts

شام۔دہشت گردوں کے ہاتھ سے دار البلد بھی گیا۔ شامی فوج علاقے میں داخل۔

qaumikhabrein

امروہا۔ شہزادی کونین کی شان میں منقبت خوانی

qaumikhabrein

سلامتی کونسل: طالبان کا انفرا اسٹرکچر ختم کرنے میں پاکستان مدد کرے۔ افغانستان

qaumikhabrein

Leave a Comment