پروفیسر ڈاکٹر منظر عباس نقوی بھی انتقال کر گئے۔ اس طرح حالیہ دنوں میں اردو ادب کو ایک اور بڑا صدمہ لگا۔ وہ88 برس کے تھے۔ انکے پسماندگان میں دو بیٹیاں ہیں۔ پروفیسر منظر عباس نقوی کے انتقال سے امام غزل میر تقی میر کے استاد میر سعادت حسن کے خانوادے کا چراغ گل ہو گیا۔ میر سعادت حسن منظر عباس کی والدہ اعجاز فاطمہ نقوی کے پر دادا تھے۔ منظر عباس نقوی امروہا کے محلہ حقانی میں جس مکان میں رہائش پزیر تھے وہ میر سعادت حسن کی ہی حویلی کا ایک حصہ ہے۔ منظر عباس نقوی نے یادگار کے طور پر سعادت حسن کی حویلی کے کچھ در محفوظ رکھے ہوئے تھے۔
ڈاکٹر منظر عباس نقوی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سربراہ رہ چکے تھے۔ منظر عباس نقوی کو آل انڈیا میر اکیڈمی امتیاز میر ایوارڈ سے نواز چکی ہے۔ وہ ایک تنقید نگار، محقق، شاعر، مرثیہ گو۔ مصنف،مرتب اور مترجم کے طور پر اپنی منفرد شناخت رکھتے تھے۔ پروفیسر منظر عباس نقوی نے درجنوں کتابیں تحریر کیں، متعدد شخصیات اور موضوعات پر لیکچرز دئے،پچاسیوں پیپرز تحریر کئے۔ انہوں نے انگریزی کے کئی معروف شاعروں کی نظموں کا اردو میں ترجمہ بھی کیا۔ اردو تنقید۔مسائل و مباحث،حسرت موہانی ایک تعارف،اسلوبیاتی مطالعہ،تفہیم و تجزیہ،وحید الدین سلیم حیات اور کارنامے،صادقین کی یاد میں، بیاد جون ایلیا، غالب روشن دماغ،منشی پریم چند کی افسانہ نگاری،تنظیم مدرسہ،نثر نظم اور شعر،انتخاب غزلیات ثاقب،سفر شوق۔سفرنامہ،صدائے استغاثہ مرثیہ،نوائے دروں۔مجموعہ نعت منقبت مرثیہ،قلم فرسیاں میری اورخطوط اقبال بنام عطیہ فیضی اور علامہ اقبال کی معنویت عہد حاضر میںجیسی تخلیقات کے خالق تھے۔نغمات فرنگ کے نام سے انہوں نے انگریزی نظموں کا ترجمہ کیا اسکے علاوہ انہوں نے ولیم ورڈز ورتھ کی نظم لوسی کا ترجمہ بھی کیا۔
پروفیسر منظر عباس نقوی کے انتقال سے اردو ادب کو جو زیاں برداشت کرنا پڑا ہے اسکی تلافی ناممکن اگرنہیں تو مشکل ضرور ہے۔ قومی خبریں ڈات کام مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے اور پسماندگان سے اظہار تعزیت کرتا ہے۔