qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

مولانا کلب جواد کے خیمے میں میرے حامی ہیں۔گستاخ قرآن وسیم کا سنسنی خیز دعویٰ۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ یو پی شیعہ وقف بورڈ کے چناؤ سے جڑے نئے نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ جس سے معاملہ مزید الجھتا جارہا ہے۔ موجودہ حالات کا بغور تجزیہ کرنے سے کسی کو بچانے اور کسی کو پھنسانے کی سازش کی بو آرہی ہے۔ ایک نیا آڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جو میرٹھ سے تعلق رکھنے والے نوحہ خواں دانش میرٹھی اور گستاخ قرآن مجید اور گستاخ آئمہ معصومین وسیم کی ٹیلی فونک گفتگو پر مبنی ہے۔ اس آڈیو کلپ کو72 چینل نامی یو ٹیوب چینل نے بھی سوشل میڈیا پر عام کیا ہے۔ دانش میرٹھی نے گفتگو کا آغاز گستاخ قرآن وسیم کے اس بیان کے پس منظر میں کیا کہ جس میں اس نے کہا تھا کہ چونکہ اسکو اور اسکے ساتھیوں کو مرتد قرر دیا جا چکا ہے اس لئے ان کے زیر انتظام قبرستانوں میں انکو مرتد سمجھنے والوں کو اپنی میتیں دفن نہیں کرنا چاہئیں۔26 منٹ35 سیکنڈ کے اس آڈیو ویڈیو کلپ میں گستاخ قرآن وسیم نے یہ سنسنی خیز دعویٰ بھی کیا کہ مولانا کلب جواد کے حامیوں میں اسکے حامی بھی موجود ہیں اور انہوں نے اسکو ووٹ دیا ہے۔ گستاخ قرآن وسیم نے یہاں تک کہا کہ مولانا کلب جواد کے امیدوار کو ووٹ دینے والوں کی فہرست میں شامل کئی لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اسکو ووٹ دیکر ثبوت کے طور پر بیلٹ پیپر کی فوٹو بھی اسکو بھیجی۔ ہم ذیل میں اس سنسنی خیز ویڈیو کلپ کا آخر کا حصہ قارئین کے سامنے پیش کررہے ہیں جس میں گستاخ قرآن وسیم نے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے۔

(بشکریہ72چینل)

گستاخ قرآن وسیم کے اس دعوے کو دیوانے کی بڑ کہکر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ ضرورت اس بات کی ہیکہ تصیویر بالکل آئینے کی طرح شفاف ہو جائے کہ در حقیقت قرآن کریم کے گستاخ کے حامی کون کون ہیں۔ اب خواہ وہ مولانا کلب جواد کے خیمے میں ہی کیوں نہ چھپے بیٹھے ہوں۔ گستاخ قرآن وسیم کے اس دعوے نے مولانا کلب جواد کے امیدوار کی حمایت کا دعویٰ کرنے والوں کو بھی شک کے دائرے میں لا کر کھڑا کردیا ہے۔ حقیقت تک پہونچنے کے لئے جو بھی ضروری اقدام اور کوششیں ہوں انکو عملی جامہ پہنایا جانا وقت کا سب سے اہم تقاضہ ہے۔ تاکہ ان متولیوں کے دعوے کی بھی قلعی کھل سکے جو قرآن مجید کے گستاخ کے حق میں ووٹ نہیں دینے کا دعویٰ کررہے ہیں۔ اور ان چہروں پر سے بھی نقاب اتر جائے جو گستاخ قرآن وسیم کی مخالفت کا دم بھرہے ہیں۔ ہمارے خیال میں اسکے لئے دو نہایت موزوں راستے ہیں جو باہم مربوط ہیں۔ مولانا کلب جواد کئی روز پہلے یہ بات کہہ چکے ہیں کہ گستاخ قرآن وسیم کی مخالفت میں ووٹ دینے والے متولی حلفیہ بیان دیں کہ انہوں نے گستاخ قرآن کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔ تاکہ حلف نامہ جھوٹا ثابت ہونےپر اس متولی پر توہین عدالت کا مقدمہ بھی چلایا جاسکے اور اسکا چہرہ بھی پوری قوم کے سامنے برہنہ ہوسکے۔ لیکن سوال یہ ہیکہ کسی متولی کا حلف نامہ جھوٹا ثابت کرنے کے لئے بیلٹ پیپر کا منظر عام پر آنا ضروری ہے۔ ہم گزشتہ اسٹوری میں بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ مولانا کلب جواد کو بیلٹ پیپر منظر عام پر لائے جانے کی سمت میں پیش رفت کرنا چاہئے۔ یہی نہیں بلکہ مولانا کلب جواد کے امیدوار کو ووٹ دینے کا دعویٰ کرنے والوں سے ہی حلف نامے لینے کی ابتدا کی جانی چاہئے۔ گستاخ قرآن وسیم کے تازہ دعوے کی روشنی میں یہ بہت ضروری ہو گیا ہے۔ جب یہ ثابت ہو جائے کہ کون کون گستاخ قرآن مجید کا حامی ہے تو پھر اسکا مکمل سماجی بائکاٹ کرنے اور تشیع سے باہر کرنے کا کام انجام دیا جاسکے۔

Related posts

بی جے پی نے بد عنوان کمپنیوں سے ہفتہ وصولی کی۔۔جمال عباس فہمی

qaumikhabrein

امریکہ میں کورونا ویکسینیشن بےاثر ۔کورونا کیسز میں 80 فیصد کا اضافہ

qaumikhabrein

کشمیر کے سینئر  صحافی منیرحسین حرہ کو اعزاز

qaumikhabrein

Leave a Comment