qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

مغربی بنگال۔ ٹی ایم سی میں واپسی کے لئے بی جے پی لیڈروں میں بھگدڑ۔

دی دی ہمیں پارٹی میں واپس لو۔ بی جے پی ارکان مطالبہ کرتے ہوئے

ملک میں کسی مطالبے کے حق میں اور کسی حکومتی فیصلے کے خلاف دھرنا۔احتجاج اور مظاہروں کا ہونا عام بات ہے۔ لیکن مغربی بنگال میں کچھ سیاسی لیڈر اور کارکنان کا دھرنا تھوڑا الگ قسم کا تھا۔ کچھ لیڈروں اور کارکنوں کا دھرنا بی جے پی کے لئے بے عزتی کا سبب بن رہا ہے۔ مغربی بنگال میں بی جے پی کے لیڈر اور ارکان ٹی ایم سی میں واپس لئے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹی ایم سی کے دفتر کے باہر دھرنا پر بیٹھ گئے تھے۔ معاملہ بیر بھومی کے الم بازار علاقے کا ہے۔ بی جے پی کے درجنوں ورکر ٹی ایم سی کے دفتر کے باہر دھرنا پر بیٹھے۔ یہ کارکان ٹی ایم سی چھوڑ کر حالیہ اسمبلی چناؤ سے قبل بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ چناؤ نتائج کے بعد اب ان لوگوں کو اپنی غلطی کا احساس ہورہا ہے اور اپنے فیصلے پر پچھتاوا بھی۔ ان لوگوں کا احتجاج کسی حد تک کامیاب رہا ۔ ٹی ایم سی نے پچاس کارکنوں اور لیڈروں کو واپس لے لیا۔ یہ واقعہ ملک کی سیاسی تاریخ میں اپنی نوعیت کا تنہا ہے کہ جب کسی قومی پارٹی کے لیڈر اور ورکر کسی دوسری پارٹی میں شامل کئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔چناؤ میں بے عزتی برداشت کرنے کے بعد اب بی جے پی کو مسلسل بے عزتی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ٹی ایم سی چھوڑ کر مکل رائے بی جے پی میں شامل ہوئے تھے پارٹی نے انہیں قومی نائب صدر بنایا تھا۔ چند روز پہلے مکل رائے ٹی ایم سی میں واپس چلے گئے۔

مکل رائے کی ٹی ایم سی میں واپسی

بی جے پی ایک اور لیڈر راجب بنرجی بھی ٹی ایم سی میں واپس جانے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ گزشتہ کئی روز میں ایسے کئے واقعات ہوئے جن سے بی جے پی لیڈر شپ میں حیرانی اور پریشانی ہے۔ پارٹی کی میٹنگ میں اسکے تمام منتخب ارکان اسمبلی شامل نہیں ہورہے ہیں۔ دو روز قبل بی جے پی کا وفد ممتا حکومت کی شکایت کرنے گورنر سے ملنے پہونچا۔ اس موقع پر بھی پارٹی کے 24 ارکان اسبلی غائب تھے۔ سنا ہیکہ وہ بھی ٹی ایم سی میں جانے کی تیاری کررہے ہیں۔ادھر ٹی ایم سی کے اس دعوے میں دم لگتا ہیکہ بی جے پی کے کم از کم تیس ارکان اسبلی اسکے لیڈروں کے رابطے میں ہیں۔ مکل رائے سے پہلے سونالی گوہا اور دیپیندو بسواس کھلم کھلا کہہ چکے ہیں کہ وہ ٹی ایم سی میں واپس جانا چاہتے ہیں۔

راجب بنرجی ٹی ایم سی میں واپسی کے لئے پر تول رہے ہیں۔

بی جے پی کی اعلیٰ لیڈر شپ اسمبلی چناؤ میں دو سو سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کررہی تھی لیکن اسے 80 سیٹیں بھی نصیب نا ہوئیں ۔ اب اسکے لیڈروں میں ٹی ایم سی میں شامل ہونے کے لئے بھگدڑ مچی ہوئی ہے۔ بی جے پی لیڈر شپ کو اتنی بے عزتی اس سے پہلے کبھی کسی ریاست میں برداشت نہیں کرنا پڑی۔ بی جے پی لیڈر شپ کو ممتا دی دی سے پگا لینا مہنگا پڑ رہا ہے۔

ممتا سے پنگا لینا بی جے پی کو مہنگا پڑا

Related posts

سرطان کا طریقہ علاج ایجاد کرنے میں ایرانی سائنسدان کامیاب

qaumikhabrein

ہندستانیوں کے لئے اچھی خبر۔سعودی ویزا آسان۔پولیس کلیئرنس کی شرط ختم

qaumikhabrein

موجودہ حالات میں مسلمانوں کے پاس سوائے تعلیم یافتہ ہونے کے کوئی راستہ نہیں۔نیر جلالپوری

qaumikhabrein

Leave a Comment