اقوام متحدہ نے اسرائیل سے کہا ہیکہ ناجائز قبضے والے مشرق یروشلم سے فلسطینیوں کو جبریہ طور پر بے دخل کرنا بند کردے ورنہ اسکی یہ حرکت جنگی جرائم کے ذمرے میں شمار کی جائےگی۔ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی دفتر کے تجمان روپرٹ کول ویلے نے جنیوا میں کہا کہ ہم اسرائیل سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو فوری طور سے بند کردینے کی اپیل کرتے ہیں۔ ہمارا یہ اصرار ہیکہ مشرقی یروشلم مقبوضہ فلسطینی علاقہ ہے جہاں بین الاقوامی قوانین نافز ہیں۔ اور قابض طاقت ان علاقوں میں نجی املاک کو ضبط نہیں کرسکتی۔ روپرٹ کولویلے نے کہا کہ عالمی قوانین کے مطابق مقبوضہ علاقہ میں شہری آبادی کو منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ یہ جنگی جرائم کے مترادف ہے۔
یواین ترجمان کا یہ سخت بیان اس واقعہ کے بعد آیا ہیکہ جب اسرائیلی قبضے والے مشرقی یروشلم میں
15 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا جو چار فلسطینی خاندانوں کی جبری بے دخلی کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ ان چار فلسطینی خاندانوں کی زمین کی ملکیت کا معاملہ لمبی قانونی لڑائی کی گرفت میں ہے۔ یہدوی اس پر اپنا دعویٰ کررہے ہیں۔ اس بیچ فرانس، جرمنی، اٹلی،اسپین اور برطانیہ نے اسرائل سے مقبوضہ فلسطینی مغربی کنارے مں بستیوں کی تعمیر روک دیے کو کہا ہے۔