qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

عالمی حدت کا نتیجہ۔۔قطب شمالی کے برفیلے سمندر کی برف کم ہورہی ہے۔

ماحولیاتی سائینسداں مارکس ریکس(Marcus Rex) کا کہنا ہیکہ ہوسکتا ہیکہ عالمی حدت اس مرحلے کو عبور کرچکی ہو جسے پلٹانا ممکن نہ ہو۔ مارکس ریکس قطب شمالی یعنی نارتھ پول میں دنیا کے سب سے بڑے سائینسی مشن کی قیادت کررہے تھے۔ اس مشن میں 20 ملکوں کے 300سائنس دانوں نے حصہ لیا۔ جرمنی کی راجدھانی برلن میں نارتھ پول کے سائینسی مشن کی ریسرچ پیش کرتے ہوئے مارکس ریکس نے کہا کہ سائینسدانوں نے پایا کہ آرکٹک کی برف جتنی تیزی سے گھٹتی جارہی ہے اس سے پہلے اتنی تیزی سے نہیں کم نہیں ہوئی.

مارکس ریکس۔ماحولیاتی سائینسداں

389 روز تک آرکٹک میں گزارنے کے بعد اکتوبر میں یہ ٹیم اکتوبر میں لوٹی۔ اور اپنے ساتھ قطب شمالی کے ختم ہوتے ہوئے برفانی سمندر کے ثبوت لیکر آئی ہے۔ سائینسدانوں کی اس ٹیم نے متنبہ کیا ہیکہ آرکٹک میں گرمی کے موسم میں جمی رہنے والی برف کے ختم ہونے میں دسیوں برس لگ سکتے ہیں۔ یہ ٹیم برف کے ایک ہزار سے زائد نمونے اور 150 ٹیرا بائٹ ڈاٹا لائی ہے۔ مارکس کے مطابق انہوں نے پایا کہ ریکارڈ کے آغاز سے آرکٹک سمندر کی برف 2020 کے موسم بہار میں تیزی سے پیچھے ہٹی اور گرمی کے دنوں میں سمندر میں برف کی چادر کئی صدیوں کے مقابلے نصف سے کم تھی۔

مارکس ریکس نے عالمی حدت پر فوری لگام لگانے کا مطابہ کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے برسوں کے تجزیہ کے بعد ہی یقینی طور پر یہ کہا جاسکیگا کہ کیا ماحولیات کی حفاظت کے موثر اقدامات کے ذریعے پورے سال آرکٹک سمندر میں برف کی چادر محفوظ کی جا سکے گی یا نہیں یا یہ کہ ہم عالمی حدت کے اس مرحلے کو پہلے ہی طے کرچکے ہیں جسے لوٹا پانا ممکن نہیں ہے۔اسی مشن میں شامل ماہر ماحولیات اسٹیفنی آرنٹ نے کہا کہ یہ افسوسناک ہیکہ ہماری نسل ممکنہ طور پر آخری نسل ہوگی جس نے گرمی میں آرکٹک پر برف کی چادر دیکھی ہوگی۔ اس مشن کے تحت جہاز پولا اسٹرن کے آس پاس چالیس کلو میٹر کے دائرے میں سمندر پر چڑھی برف کی چادر پر چار ریسرچ سائٹس قائم کی گئیں تھیں۔

Related posts

فلسطینیوں کے قافلے پر اسرائل کا حملہ۔70 شہید

qaumikhabrein

یمنی فوج کے سعودی عرب کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔

qaumikhabrein

مہاراشٹر کے سابق وزیر سریش دھس پراوقاف کی زمینوں کے گھوٹالہ کا الزام

qaumikhabrein

Leave a Comment