qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

ضیا عباس نجمی کی موت پر اظہار تعزیت کا سلسلہ

شاعر اہل بیت ، ذاکر محمد و آل محمد اور صحافی ضیا عباس نجمی امروہی کی موت پر اظہار تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد ضیا عباس نجمی امروہی کی نا وقت موت پر اپنے دلی رنج و غم کا اظہار کررہے ہیں۔ ضیا عباس نجمی کا مختصر علالت کے بعد گزشتہ سات جولائی کو امرہا کے ایک نجی اسپتال میں انتقال ہو گیا تھا۔ وہ گردے کے عارضے میں مبتلا تھے۔ ضیا عباس نجمی سماجی، مذہبی اور ادبی حلقوں میں بہت مقبول تھے۔ انکے تعلقات کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ان سےتعلق رکھنے والے انکی موت کو ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہیں۔نگرم آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے مولانا عباس باقری نےنجمی امروہی کی موت کو اپنا ذاتی نقصان قرار دیا ہے۔

مولانا کوثر مجتبیٰ امروہی نے نجمی امروہی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک ملنسار، سادہ لوح خوش مزاج اور ایماندار شخصیت قرار دیا۔ مولانا کوثر مجتبیٰ نے نجمی امروہی سے اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انکی موت کو ایک جانکاہ حادثہ قرار دیا۔

مداح اہل بیت، ذاکر اہل بیت اور ناظم ڈاکٹر لاڈلے رہبر نے نجمی امروہی کی موت پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر لاڈلے رہبر نجمی امروہی سے اپنے پرانے مراسم کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر لاڈلے نجمی امروہی کے ذریعے منعقد ہونے والے جشن علی اکبر کی نظامت کرتے تھے۔

شاعر آل عبا اور امرہا کی انجمن تحفظ عزاداری کے عہدےدار لیاقت امروہی ان افراد میں شامل ہیں جن سے نجمی امروہی کی لگ بھگ روز ہی ملاقات ہوتی تھی۔ ڈاکٹر لاڈلے کے یہاں جمنے والی محفل میں نجمی امرہی پابندی سے شامل ہوتے تھے۔ لیاقت امروہی سے بھی نجمی امروہی کا لگ بھگ تیس برس پرانا ساتھ تھا۔

معروف شاعر اورمصنف پنڈت بھون کمار شرما بھون امروہا کی ان ہستیوں میں شامل ہیں جنکے نجمی امروہی سے بہت قریبی تعلقات تھے۔ دونوں مختلف شہروں میں ہونے والی مقاصدہ کے محفلوں میں اکثر و بیشتر ساتھ ساتھ ہی شرکت کرتے تھے۔ امروہا کی معروف ہستیوں پر جب بھون شرما کتاب ترتیب دے رہے تھے تب نجمی امروہی نے انکے اس کام میں کافی تعاون کیا تھا۔ بھون شرما نے اس کتاب میں نجمی امروہی کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ بھون شرما نجمی مروہی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نجمی امروہی کی موت سے وہ اپنے ایک اچھے اور سچے دوست سے محروم ہو گئے ہیں۔

سرکردہ صحافی سراج نقوی نے بھی ضیا عباس نجمی امروہی کے انتقال پر اپنے دلی صدمے کا اظہار کیا ہے۔ سراج نقوی اور نجمی امروہی کے خاندانی تعلقات تھے۔ سراج نقوی کے والد مرحوم علی مہدی نقوی اور نجمی امروہی کے والد توکل حسین کے دیرینہ اور قریبی تعلقات تھے۔ علی مہدی نقوی مرحوم بحیثیت وکیل توکل حسین کے مقدموں کی پیروی کرتے تھے۔ سراج نقوی نے نجمی امروہی کی موت پر کہا کہ وہ اپنے قریبی اور ہم عمر ساتھی سے جدا ہو گئے۔

Related posts

مکار صیہونیوں کی نظر اب لبنان کے تیل پر۔ حزب اللہ ہوشیار

qaumikhabrein

اسمارٹ فون، گھڑی، ٹی وی، دروازے کی گھنٹی تک جاسوسی کرتی ہے

qaumikhabrein

منی پال میں منی پال انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنا لاجی کے انساٹھ طلبا کووڈ پازیٹیو پائے گئے۔

qaumikhabrein

Leave a Comment