qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

سیکولر پارٹیوں کے ایجنڈے سے مسلمان غائب۔از سراج نقوی

اتر پردیش میں آئیندہ برس ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے حکمراں بی جے پی سمیت تمام پارٹیوں نے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ان تیاریوں کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ ہر پارٹی اپنا اپنا ووٹ بنک بنانے کے لیے مختلف برادریوں اور فرقوں کو اپنی طرف کرنے کے لیے مختلف سیاسی ہتھکنڈے اپنا رہی ہے اور یہ ثابت کرنے کے لیے کوشاں ہے کہ صرف وہی ان کی سچّی ہمدرد اور خیر خواہ ہے۔
اتر پردیش کی دو اہم اپوزیشن پارٹیوں سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی نے اس معاملے میں اپنے اپنے نشانے طے کر لیے ہیں۔یعنی یہ پارٹیاں کچھ خاص برادریوں کو لبھانے کے لیے پوری ریاست میں
ان کے خصوصی اجلاس منعقد کر رہی ہیں۔لیکن حیرت اور اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمان ان میں سے کسی پارٹی کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔

شاید یہ مان لیا گیا ہے کہ مسلمان اب اس ملک کی سیاست میں ’حرف غلط‘ ہو گیا ہے اور اسے نظر انداز کرنا ہی بہتر ہے۔حالانکہ جمہوری سیاست میں کسی بھی خاص فرقے،ذات،علاقے،لسانی گروپ یا پھر مذہب کے ماننے والوں کو ووٹ بنک بنانے کے ارادے سے توجہ دینا کسی بھی طرح صحت مند سیاست نہیں کہی جا سکتی۔اس اعتبار سے اگر مسلمانوں یا کسی کو بھی کوئی سیاسی پارٹی صرف حصول ووٹ کی خاطر خصوصی توجہ دینے کی بات کرتی ہے تو اس کا کوئی جواز نہیں۔لیکن ہماری جمہوریت میں ووٹ بنک کی سیاست اس ایمانداری سے عاری نظر آتی ہے۔

اسی لیے جب سیاسی پارٹیاں ان طبقات کو لبھانے کی بات کریں کہ جو سماجی اور سیاسی طور پرمسلمانوں سے کافی بہتر ہیں اور جن کے مسائل بھی مسلم اقلیت کے مقابلے میں کافی کم ہیں تو یہ سوال پوچھنا قطعی درست ہے کہ آخر مسلمانوں کو اور ان کے مسائل کو کس لیے نظر انداز کیا جا رہا ہے اور انھیں کیوں سیاست کے حاشیے پر دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جہاں تک بی جے پی کا تعلق ہے تو اس کا ایجنڈہ واضح ہے۔آج کی بات نہیں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے بھی اپنے دور اقتدار میں ایک مرتبہ واضح الفاظ میں یہ بات کہی تھی کہ انھیں مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت نہیں ہے۔اسی لیے اگر آج بی جے پی مسلمانوں کے تعلق سے کچھ ذہنی تحفظات کی شکار ہے تو اس سے کوئی امید وابستہ کرنا خود فریبی ہی ہے۔لیکن جہاں تک کانگریس،سماجوادی پارٹی،بی ایس پی یا دیگرنام نہاد سیکولر پارٹیوں کا تعلق ہے تو مسلمانوں سے دوری بنانے کی ان کی پالیسی افسوسناک اس لیے ہے کہ ان میں سے بیشتر پارٹیاں وہ ہیں کہ جنھوں نے ماضی میں ایوان اقتدار تک پہنچنے میں مسلمانوں کی بھرپور حمایت اور مدد حاصل کی ہے۔

بی ایس پی کے عروج و زوال پر نظر رکھنے والے اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ مایاوتی کی سوشل انجینئیرنگ میں دلت اور مسلمانوں کا بڑا رول رہا ہے۔یہ پارٹی ماضی میں جس طرح ”تلک،ترازو اور تلوار‘ یعنی اعلیٰ ذات ہندوؤں کے خلاف آواز اٹھا کر اپنی سیاست چمکاتی رہی ہے اس کے سبب ہی اسے دلتوں کا اعتماد حاصل ہوا ہے۔لیکن آج صورتحال مختلف ہے۔بی ایس پی میں مایاوتی کے بعد دوسرے سب سے طاقتور لیڈر اس وقت ستیش مشرا ہیں،اور مشرا جس طرح اعلیٰ ذات ہندوؤں خصوصاً برہمنوں کو لبھانے کے لیے ریاست بھر میں اپنی پارٹی کے اجلاس کر رہے ہیں اس سے صاف ہے کہ بی ایس پی کی نئی سوشل انجینیرنگ میں اب مسلمانوں کی جگہ ان برادریوں یا برہمنوں نے لے لی ہے کہ جنھیں خود مایاوتی ”منووادی“ طاقتیں کہہ کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتی اور اپنی دلت سیاست چمکاتی رہی ہیں۔ستیش مشرا نے اتر پردیش کے مختلف شہروں میں جس طرح برہمن سمّیلن کیے اور جس طرح بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ برہمنوں پر مظالم کر رہی ہے وہ سیاسی مفادپرستی کی بد ترین مثال ہے۔ملک کی نوکوشاہی سے لیکر دیگر تمام اہم شعبوں میں اعلیٰ ذات ہندوؤں اور خصوصاً برہمنوں کی بڑی تعدا د ستیش مشرا کے دعووں کو غلط ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔سچ یہ ہے کہ جس طرح ستیش مشرا بار بار اپنے جلسوں میں برہمنوں کے مفادات کی بات کر رہے ہیں اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ دلت مفادات کی بات کرنے والی پارٹی بی ایس پی کو کسی سازش کے تحت ہائی جیک کر لیا گیا ہے اور اسے دلتوں سے دور کرنے کی منظم کوشش ہو رہی ہے۔جبکہ ریاست کا مسلمان آج جس حال میں ہے اس پر مایاوتی یا ستیش مشرا نے ابھی تک ایک بھی بیان نہیں دیا ہے۔بی ایس پی کے جلسوں کی دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان میں جس شدت سے سماجوادی پارٹی اور کانگریس کو نشانہ بنایا جارہا ہے وہ جارحانہ تیور حکمراں بی جے پی کے خلاف نظر نہیں آتے۔کیا یہ مانا جائے کہ اسمبلی الیکشن کے بعد کسی ممکنہ ’ہارس ٹریدنگ‘میں بی ایس پی،بی جے پی کے ساتھ مل کر اقتدار میں حصہ داری کا خواب دیکھ رہی ہے۔. مایاوتی کی سیاست کو قریب سے جاننے والے یہ بات بخوبی سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مفادات کے لیے کسی بھی وقت پالا بدل کر بی جے پی سے ہاتھ ملا سکتی ہیں۔

ریاست کی دوسری اہم سیاسی پارٹی سماجوادی پارٹی حالانکہ بظاہر بے جے پی کے خلاف صف آرا نظر آتی ہے لیکن اس نے بھی مسلمانوں کو اپنے سیاسی بساط سے غیر اعلانیہ طور پر باہر کر رکھا ہے۔سماجوادی پارٹی کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اکھیلیش یادو کے بیانات میں ریاست کے تمام چھوٹے بڑے مسائل کو لیکر بی جے پی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن مختلف مسلم مسائل کے تعلق سے انھوں نے بھی اپنے ہونٹ سی لیے ہیں۔حد تو یہ ہے کہ پارٹی نے اپنے سب سے بڑے مسلم چہرے یعنی اعظم خاں کو بھی تنہا چھوڑ دیا ہے،اور ان کے حق میں کوئی عوامی تحریک چلانے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔سماجوادی پارٹی نے حال ہی میں پوروانچل کے دس اضلاع میں ’پسماندہ طبقات اجلاس‘ منعقد کیے ہیں۔کانپور میں اگست کرانتی کے دن اسی طرح کے اجلاس کا انعقاد بھی پسماندہ طبقات کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور ان کے ووٹ حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔پارٹی نے دس اگست کو پھولن دیوی کے گاؤں میں ان کی جینتی مناکر بھی پسماندہ طبقات پر اپنی خاص عنایات کا اشارہ دیا ہے۔اس کے علاوہ جھانسی،
مہوبا،حمیرپور،کانپوردیہات،فتح پور،جہان آبادمیں بھی پسماندہ طبقات کے اجلاس منعقد کیے گئے ہیں۔لیکن جہاں تک مسلم، اقلیت کا تعلق ہے تو ایسا لگتا ہے کہ سماجوادی پارٹی نے یہ مان لیا ہے کہ مسلمان کے پاس موجودہ حالات میں سماجوادی پارٹی کی حمایت کے علاوہ دوسرا کوئی متبادل نہیں ہے اس لیے ان کے مسائل پر کسی اجلاس کی ضرورت نہیں۔سماجوادی پارٹی کے ایک بہت سینئیر لیڈر اور رکن اسمبلی نے اپنا نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر راقم سے یہ اعتراف کیا کہ ان کی پارٹی اب سیکولرزم کی راہ سے بھٹک گئی ہے۔یہی سبب ہے کہ ایک طرف پارٹی مسلم مسائل پر لب کشائی سے گریز کر رہی ہے تو دوسری طرف ہندوتو کے بہت سے ایشوز پر بی جے پی کی بی ٹیم بننے کی راہ پر گامزن ہے۔اب یہ الگ سوال ہے کہ ایسے میں ریاست کا غیر مسلم ووٹرہندوتو کے نام پر بی جے پی کی طرف جائیگا یا پھر برائے تبدیلی سماجوادی پارٹی کا دامن تھام لیگا۔لیکن ایک بات تو بہرحال واضح ہے کہ پارٹی مسلمانوں کو حاشیے پر دھکیلنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

جہاں تک کانگریس کا تعلق ہے تو ابھی تک یہ پارٹی اتر پردیش میں اپنا تنظیمی ڈھانچہ مضبوط بنانے میں ناکام نظر آتی ہے اور اس کے بغیر انتخابی کامیابی کا کوئی تصور کم از کم بی جے پی جیسی منظم پارٹی کی موجودگی میں نہیں کیا جا سکتا۔دوسری بات یہ کہ مسلم مسائل کے تعلق سے سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی کے مقابلے میں بہتر ہونے کے باوجود کانگریس بھی کھل کر اس معاملے میں بولنے سے ببچ رہی ہے۔یعنی کانگریس کے ایجنڈے میں بھی مسلمان اب پہلے جیسی حیثیت میں نہیں ہے۔ ان تمام پارٹیوں میں مسلم قیادت والی پارٹیوں مثلاً مجلس اتحادالمسلمین،پیس پارٹی،علماء کونسل یا ایسی ہی دیگر پارٹیوں سے دامن بچانے کا رجحان بھی صاف نطر آرہا ہے۔جس سے صاف ہے کہ سیکولرزم کی مدعی پارٹیاں بھی اب مسلمانوں کو کنارے کرکے سیاست کی راہ پر آگے بڑھنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔
sirajnaqvi08@gmail.com Mobile:09811602330


Related posts

شمالی کشمیرکے سنگھ پورہ کے ہری نارہ گاؤں میں پینے کے پانی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ۔یہ علاقہ آج تک پینے کے پانی سے محروم

cradmin

افغانستان میں ملا عبدالغنی برادر کے قیادت سنبھالنے کا امکان۔

qaumikhabrein

ٹیچرز کی بھرتی اب MPSCکی معرفت ہو۔۔ اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کا مطالبہ

qaumikhabrein

Leave a Comment