qaumikhabrein
Image default
قومی و عالمی خبریں

سلامتی کونسل ارکان کا اسرائیل کو انتباہ

صیہونی اسرائیل کی فلسطینیوں کے تئیں جارحانہ کاروائیاں جاری ہیں۔ وادی اردن میں بسے فلسطینی بدؤوں کی بستیوں کو اجاڑا جارہا ہے۔ دو ہزار بیس میں یہاں سے آٹھ سو سے زیادہ فلسطینیوں کو بے گھر کیا جا چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق وادی اردن میں ساٹھ ہزار فلسطینی آباد ہیں۔ وادی کے ہی ہمسہ ال بقیہ علاقہ میں اکتالیس بچوں سمیت ستر سے زیادہ بدو آباد ہیں۔ جنہیں اجاڑنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ بدؤوں کے کئی گھروں کو مسمار کیا جاچکا ہے۔

اقوام متحدہ اور سیکیورٹی کونسل کے یورپی ممبروں نے اسرائیل سے وادی اردن میں جاری انہدامی کاروائی کو فوری طور سے روک دینے کی اپیل کی ہے۔ اسرائیل سے یہ بھی اپیل کی گئی ہیکہ بدؤوں تک انانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہونچنے دی جائے۔سیکورٹی کونسل کی ماہانہ میٹںگ کے اختتام پر ایسٹونیا، فرانس، آئیر لینڈ، ناروے اور برطانیہ کے ایک مشترکہ بیان میں ہمسہ ال بقیہ میں جاری انہدامی کاروائی پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

بتایا جاتا ہیکہ اسرائیلی کارندوں نے بدؤوں کا سامان بھی لوٹ لیا اور یوروپی یونین اور دیگر عطیہ کنندگان کے ذریعے فراہم اسباب اور تعمیراتی ڈھانچے بھی اہلکار اپنے ساتھ لے گئے۔ بیان میں کہا گیا ہیک اسرائیل کو انہدام اور ضبطی کا کام فوری طور سے روک دینا چاہئے۔ اردن وادی کی نوے فیصد زمین کو سی ایریا کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ جو پوری طرح اسرائیل کے کنٹرول میں ہے اور یہ علاقہ مغربی کنارے کا لگ بھگ ساٹھ فیصد ہے۔ یہاں فوجی چھاؤنی بھی ہے۔

بارہ ہزار اسرائیلی بستیاں بھی ہیں۔ لیکن فلسطینیوں کو اپنیزمینوں تک جانے کی اجازت نہیں ہے۔ بغیر فوج کی پرمیشن کے فلسطینی اپنی زمین پر کنواں نہیں کھود سکتے۔

کوئی تعمیر نہیں کرسکتے۔ فوج کی پرمیشن بمشکل تمام ہی حاصل ہوتی ہے۔ سی ایریا میں کوئی کام کرنے کی ہزاروں درخواستوں میں سے محض دو فیصد تسلیم کی جاتی ہیں۔بلا اجازت اگر کوئی تعمیری کام کر بھی لیا جائے تو اسرائیلی اہلکار اسے فورن توڑ ڈالتے ہیں۔نومبر دو ہزار بیس میں چھتیس بچوں سمیت ساٹھ افراد کو بے گھر کیا گیا اسکے بعد انکے گھروں کو مسمار کردیا گیا۔

Related posts

کربلا میں شہید ایرانی جنرل کی نماز جنازہ

qaumikhabrein

روس۔ایک اسکول میں اندھادھند فائرنگ۔متعدد بچے ہلاک۔

qaumikhabrein

میرٹھ میں جناب محسن ابن علی کی شہادت کا غم۔ مجلس عزا کا اہتمام

qaumikhabrein

Leave a Comment