qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

ایودھیا میں نظر آئی امید کی کرن۔۔تحریر سراج نقوی

ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی اور اترپردیش میں پنچاتی انتخابات کا دور ختم ہو چکا ہے۔نتائج سامنے آچکے ہیں اور ان پر تبصروں کا سلسلہ بھی تقریباً تھم گیا ہے۔مرکزی حکومت وزیر اعظم کے لیے زیر تعمیر نئے محل جسے سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کا نام دیا گیا ہے،کی تیاریوں میں مصروف ہے۔جہاں تک کورونا کے سبب مرنے والوں کا تعلق ہے تو کچھ لیڈروں کاخیال ہے کہ موت تو آنی ہی ہے اور اسے کوئی نہیں روک سکتا۔لہٰذایہ بات کم از کم حکمرانوں کے لیے بے معنی ہے کہ کورونا کی صورتحال کیا ہے اور اسے قابو میں کرنے کے لیے کیا تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں۔ عوام کی ایک بڑی تعد اد ان حالات کے سبب مایوسی،دکھ اور حکومت کے خلاف غم و غصّے کی شکار ہے۔ان حالات میں ایودھیا سے متعلق ایک خبر ایسی ہے کہ جسے امید کی کرن کہا جا سکتا ہے۔
خبر کے مطابق اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں ہوئے پنچایتی انتخاب میں ایک ہندو اکثریتی گاؤں میں ایک مسلمان کو گاؤں کے لوگوں نے اپنا پردھان منتخب کیا ہے۔ایک انگریزی روزنامہ کی خبر کے مطابق ایودھیا کے راجہ پور گاؤ کے رائے دہندگان نے حافظ عظیم الدین کو اپنا پردھان منتخب کیا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ حافظ عظیم الدین کے اہل خانہ کے علاوہ اس گاؤں میں کوئی اور مسلم کنبہ نہیں رہتا۔یعنی عظیم الدین کا گھر گاؤں کا واحد مسلم گھر ہے۔البتہ ان کا کنبہ کافی بڑا ہے اور اس میں کل 82 افراد ہیں۔عظیم الدین کو 200 سے زائد ووٹ ملے اور ان کے مقابلے پر کھڑے ہوئے باقی امیدوار وں کو شکست کا منھ دیکھنا پڑا۔ان امیدواروں کا تعلق ہندو فرقے سے تھا۔عظیم الدین کو ووٹروں کی کس قدر حمایت حاصل ہوئی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے بعد دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار کو محض 58 ووٹ ہی حاصل ہوئے۔ ظاہر ہے عام انتخابات میں ذات برادری یا مذہب و مسلک کے نام پر پڑنے والے ووٹوں کی سیاست سے اس چھوٹے لیکن دل کے بڑے گاؤں کے لوگ دور ہی رہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ رام کی نگری ایودھیا میں رام کے نام پر زہر پھیلانے والوں کو اس گاؤں کے لوگوں نے آئینہ دکھانے میں کامیابی حاصل کر لی۔عظیم الدین اپنی اس کامیابی کو گاؤں کے لوگوں کی طرف سے انھیں دیا گیا عید کا تحفہ مانتے ہیں۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عظیم الدین کاشتکار ہونے کے ساتھ ساتھ مدرسے سے حافظ اور عالم کی ڈگری یافتہ ہیں۔یعنی ان کی نمایاں مذہبی شناخت کے باوجود گاؤں کے لوگوں نے ان پر اپنا اعتماد ظاہر کیا ہے۔عظیم الدین ایک مدرسے میں تدریس کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔راجہ پور گاؤں کے لوگوں کا اس معاملے میں واضح موقف ہے کہ وہ انتخابات میں ذات یا مذہب کے نام پر اپنا ووٹ نہیں دیتے بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ کون ان کے لیے اچھا یا برا ہے۔گاؤں کے لوگ مانتے ہیں ان کی نظر میں یہی سچا سیکولرزم ہے۔یہاں یہ یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہوئے پارلیمانی انتخابات میں بھی اہل ایودھیا نے کمیونسٹ پارٹی کے امیدوار کو انتخابی جیت دلائی تھی۔یعنی رام کی نگری بار بار اپنے سیکولر ہونے کا ثبوت دیتی رہی ہے، لیکن فرقہ پرست طاقتیں ملک اور دنیا بھر میں اس شہر کو سخت گیر ہندوتو کی علامت کے طور پر تشہیر دے کر اس کی بالواسطہ توہین کرتے رہے ہیں۔عظیم الدین کی بظاہر چھوٹی لیکن درحقیقت موجودہ حالات میں بہت اہم فتح نے بھی ایودھیا کو ہندوتوکے مرکز کی بجائے سیکولرزم کی علامت کے طور پر پیش کرکے امید جگائی ہے کہ بھگوا طا قتیں بھلے ہی ہندوتو اور رام کا نام لیکر پورے ملک میں فرقہ پرستی کا زہر گھول رہی ہوں اور عوام کو ہندو مسلم کے نام پر لڑا کر اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے ملک کے امن و امان کو تباہ کرنے پر آمادہ ہوں لیکن خود ایودھیا میں سیکولرزم نہ صرف زندہ ہے بلکہ پورے ملک کے لیے اس تاریکی میں امید کی ایک کرن بھی ہے۔

امید کی کرن یہ بھی ہے کہ کچھ سخت گیر ہندو عناصر بھی اب مودی کے بنے ہوئے ہندوتو کے پرفریب جال سے باہر نکلنے لگے ہیں۔ان میں اکھل بھارتی ہندو مہاسبھا کے سربراہ سوامی چکرپانی اور ان جیسے کئی سادھو سنت خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
کورونا کے سبب ملک بھر میں ہونے والی اموات نے سوامی چکر پانی کو بی جے پی قیادت سے متنفر کر دیا ہے۔سوامی نے مودی سے استعفیٰ دینے کے لیے کہا ہے۔موصوف کا کہنا ہے کہ مودی کو آفت کی اس گھڑی میں مواقع کی تلاش کی بجائے لوگوں کو دوائیں،آکسیجن اور ٹیکے مہیا کرانے چاہئیں،اور ان تمام اشیا سے جی ایس ٹی ہٹانا چاہیے۔ سوامی چکرپانی نے مودی سے صاف طور پر کہا ہے کہ وزیر اعظم اپنے عہدے پر رہنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔سوامی نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ مودی اپنی کرسی راج ناتھ سنگھ یا نتین گڈکری کو سونپ دیں۔چکرپانی کا یہ مشورہ بی جے پی میں حالات بدلنے اور مودی کے اقتدار پر داخلی سطح سے اٹھنے والی آوازوں کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔سبرامنیم سوامی بھی چند روز قبل ایسا ہی مطالبہ کر چکے ہیں۔چکرپانی نے اپنے اس بیان میں جو زبان مودی اور حکومت کے خلاف استعمال کی ہے وہ بیحد سخت ہے۔حالانکہ انھیں حال تک مودی کے خیر خواہوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔اپنے بیان میں چکرپانی نے سوشل میڈیا پر کچھ عرصہ قبل وائرل ہوئی سوڈان کی وہ تصویر بھی شئیر کی ہے جس میں قحط سالی کے دوران و ہاں ایک قریب المرگ بچی کے پاس ایک گدھ کو بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے جو اس بات کا منتظر ہے کہ کب بچی بھوک سے دم توڑے او ر وہ اس کی لاش کو ٹھکانے لگائے۔ اس تصویر کا قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ اس کے فوٹو گرافر سے جب ایک صحافی نے یہ سوال کیا تھا کہ جب اس نے تصویر لی تو لڑکی کے پاس کتنے گدھ تھے تو فوٹو گرافر نے جواب دیا تھا کہ وہاں صرف ایک گدھ تھا۔اس پرصحافی نے کہا تھا کہ وہاں ایک نہیں بلکہ دو گدھ تھے۔دراصل صحافی نے یہ طنز اس فوٹو گرافر پر کیا تھا کہ جو فلائٹ پکڑنے کی جلدی میں مظلوم اور بھوکی بچی کو گدھ کا لقمۂ اجل بننے کے لیے چھوڑ آیا تھا۔غیرتمند فوٹو گرافر نے صحافی کے اس طنز کی تاب نہ لاکر کچھ دن بعد خود کشی کر لی۔ بہرحال سوامی چکر پانی نے یہ تصویر شئیر کرکے پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ حکومت کورونا کے معاملے میں دوسرے گدھ جیسا رول ادا نہ کرے۔حکمراں جماعت اور اس کابے غیرت حاشیہ بردار ٹولہ سوامی چکرپانی کے اس طنز پر یا مودی کے سے استعفیٰ دینے کے مطالبے پر کیا رد عمل ظاہر کرتا اس پر کچھ کہنا لاحاصل ہے،لیکن یہ بات بہرحال باعث اطمینان ہو سکتی ہے کہ اندھ بھکتی کا نشہ اب کچھ لوگوں پر سے اترنا شروع ہو گیا ہے۔

عالمی میڈیا میں مودی حکومت پر شدید تنقید کا جوسلسلہ شروع ہوا ہے اس کی بھی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔میڈیکل ریسرچ جنرل ’دی لینسٹ‘میگزین نے اپنے اداریے میں جس طرح مودی کو کورونا کے تازہ حالات کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا ہے وہ اپنے آپ میں غیر معمولی ہے۔میگزین کا خیال ہے کہ مودی کا کام ناقابل معافی ہے،اور انھیں اس معاملے میں اپنی ذمہ داری سے راہ فرار اختیار نہیں کرنی چاہیے۔لیکن وزیر اعظم کی ضد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والی تنقیدوں کو مثبت انداز میں لینے کی بجائے اسے دبانے میں لگے ہیں۔
لیکن ان تمام حالات کے باوجود وزیر اعظم مودی اور ان کی پالیسیوں سے عوام اب دور ہو رہے ہیں۔ ہندو مسلم تنازعات کے خطرناک نتائج نے بھی کچھ لوگوں کی آنکھیں کھول دی ہیں۔بنگال اور کیرل اسمبلی کے انتخابی نتائج کے ساتھ ساتھ ایودھیا کے مذکورہ ایک چھوٹے سے گاؤ ں کا انتخابی نتیجہ فرقہ پرستی،نفرت اور نااہلی کے پیروکاروں کے مقابلے میں محبت،سیکولرزم،انسان دوستی اور رواداری کی جیت کا واضح ثبوت ہے۔
sirajnaqvi08@gmail.com Mob:-09811602330

Related posts

مفضل سیف الدین جامعہ ملیہ کے نئے چانسلر منتخب

qaumikhabrein

کورونا کی دوا نقصان دہ ہے۔ دواساز کمپنی نے تسلیم کرلیا

qaumikhabrein

کیرلہ کی فاطمہ نے کتابت کرکے تیار کیا قرآن مجید کا نسخہ

qaumikhabrein

Leave a Comment